بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لونڈی سے پیدا کی گئی اولاد کے لیے ترکہ/ وراثت میں سے حصہ ہو گا یا نہیں؟

سوال

لونڈی سے پیدا کی گئی اولاد کے لیے ترکہ/وراثت میں سے حصہ ہو گا یا نہیں?

جواب

واضح رہے کہ باندی سے اولاد کے حصول کی صورت میں اولاد آزاد نہیں ہوتی جب تک اس کو آزاد نہ کیا جائے یعنی اگر آقا نے اپنی باندی کی شادی کسی آدمی سے کروا دی تو ان سے پیدا ہونے والی اولاد آقا کی غلام ہو گی اور غلامی چوں کہ میراث کے حصول سے مانع ہے؛  لہذا اس غلام کے والد کے انتقال کی صورت میں اس کو میراث میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔  اور اگر آقا نے خود اپنی باندی سے جماع کیا اور اولاد پیدا ہوئی تو یہ اولاد آزاد ہو گی اور والد کے انتقال کی صورت میں میراث میں حق دار ہو گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 657):
"(ولد الأمة من زوجها ملك لسيدها) تبعًا لها (وولدها من مولاها حر)". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 653):
"(والولد) ما دام جنينًا (يتبع الأم) .....  (في الملك)".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 655):
"(قوله: واستيلاد) بأن زوج أم ولده فحملت تبعها ولدها في حكم أمومية الولد فيعتق بموت السيد كالأم".  
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200510
تاریخ11-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں