بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حلال اجزاء سے بنی نیل پالش لگانے کا حکم

سوال

کیا حلال نیل پولش لگا سکتے ہیں؟ کیا اس کو لگانے کے بعد وضو کرنے سے وضو ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہےکہ اگر نیل پالش میں ناپاک اشیاء استعمال کی گئی ہوں تو اس کا لگانا جائز نہیں ہو گا اور اگر اس میں ناپاک اجزاء کا استعمال نہ ہو تو اس کا لگانا جائز ہو گا، لیکن جس نیل پالش کی وجہ سے ناخنوں پر تہہ جم جاتی ہو (خواہ وہ کیمیکل سے ہٹانا پڑے یا دوسرے ناخن سے رگڑنے سے ہٹ جائے)  اس کو لگانے کی وجہ سے چوں کہ پانی جلد تک نہیں پہنچتا؛ اس لیے وضو / غسل کرنے سے پہلے اس کو ہٹانا ضروری ہو گا۔

اور جس نیل پالش کے بارے میں تحقیق سے ثابت ہو کہ اس کی تہہ ناخن پر نہیں جمتی، بلکہ پانی اس کے نیچے تک پہنچ جاتا ہے تو ایسی نیل پالش وضو کے لیے مانع نہ ہو گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200500
تاریخ11-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں