بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرامی کہنے پر سزا

سوال

اگر کوئی شخص کسی کو ’’حرامی‘‘  کہے اور حرامی سے مراد حرام کھانے والا ہو تو کیا اس پر شرعاً  کوئی سزا ہوگی یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت میں یہ کہنے والے پر حدِ قذف تو جاری نہیں ہوگی، البتہ حاکم یا قاضی تعزیراً  سزا دے سکتا ہے کہ آئندہ بلا تحقیق ایسا الزام نہ لگائے۔ عرف میں ’’حرامی‘‘  حرام کھانے والے کو نہیں، بلکہ ولد الزنا ہی کو کہتےہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 52):
"ذكره في النهر بحثًا أخذًا مما في القنية لو قال لآخر: "يا حرامي زاده" لايحد، ولو قاله الوالد لولده يعزر، فإذا وجب التعزير بالشتم فبالقذف أولى، فقوله في البحر: وفي نفسي منه شيء؛ لتصريحهم بأن الوالد لايعاقب بسبب ولده، فإذا كان لقذف لايوجب عليه شيئًا فالشتم أولى اهـ ممنوع، نهر". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200492
تاریخ11-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں