بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو طلاق رجعی کے بعد رجوع

سوال

ایک خاتون کے شوہر نے اپنی بیوی کو دو لوگوں کے موجودگی میں کہا: ’’میں ایک طلاق دیتا ہوں،  باقی دو بعد میں حقِ مہر دینے کے بعد دوں گا‘‘، اسی وقت اپنا فیصلہ بدل کر کہا : ’’نہیں، میں ایک نہیں، دو طلاق دیتا ہوں اپنی بیوی کو،  باقی ایک طلاق حقِ مہر دینے کے بعد دوں گا‘‘۔  اس کے چند منٹ بعد بزرگوں کی نصیحت سن کر اپنی بیوی سے رجوع کرلے اور صلح کرلے تو اس مسئلے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں اور رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہوچکا ہے، میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے، البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل  رہے  گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200485
تاریخ11-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں