بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چاند گرہن یا سورج گرہن کے دوران حاملہ عورت کا جاگنا

سوال

چاند گرہن اور سورج گرہن میں حاملہ عورت کے لیے جاگنا طبی لحاظ سے کیسا ہے،  کیوں کہ شرعی اعتبار سے سونے میں کوئی حرج نہیں ہے?

جواب

سورج اورچاند گرہن اللہ رب العزت کی قدرت کی نشانیوں میں سےایک نشانی ہے، جس سے اللہ پاک اپنے بندوں کوتنبیہ فرماتےہیں، باقی جیسے عام انسانی جسم پراس کے  اثرات ظاہرہونے کی شرعاً  کوئی حقیقت نہیں ہے، اسی طرح چاند گرہن یا سورج گرہن کے دوران حاملہ عورت کے لیے جاگنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔

باقی طبی اعتبار سے معلومات کے لیے کسی اچھے طبیب یا ڈاکٹر وغیرہ سے پوچھ لیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200475
تاریخ10-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں