بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر شوہر زبان سے بیوی کو یہ کہے کہ میں نے  تجھے طلاق دی،  مگر دل میں تین طلاق کی نیت کرے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر شوہر زبان سے بیوی کو یہ کہے کہ ’’میں نے  تجھے طلاق دی‘‘،  مگر دل میں تین طلاق کی نیت کرے تو کیا حکم ہے؟

جواب

اگر شوہر زبان سے بیوی کو یہ کہے کہ میں نے  تجھے طلاق دی،  مگر دل میں تین طلاق کی نیت کرے تو  اس سے ایک ہی طلاق واقع ہو گی، تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔

المبسوط للسرخسي (6/ 76):
"ولو نوى بقوله: "أنت طالق"، ثلاثًا أو اثنتين، لاتعمل نيته عندنا، ولايقع عليها إلا واحدة رجعية".

تحفة الفقهاء (2/ 176):
"فَإِن نوى بقوله: "أَنْت طَالِق"، ونظائره ثَلَاث تَطْلِيقَات أَو طَلْقَتَيْنِ لَايَصح عندنَا".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200467
تاریخ10-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں