بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے پیسے مدرسہ میں خرچ کرنے اور بعد میں واپس کرنے کا حکم

سوال

مسجد کے پیسے مدرسہ میں خرچ کرنا اور بعد مین ان کو ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر مسجد اور مدرسہ کی منتظمہ کمیٹی الگ الگ ہے یا دونوں کے لیے الگ الگ چندہ جمع کیا جاتا ہے تو   جن لوگوں نے مسجد کے  لیے پیسے دیے ہیں وہ امانت ہیں اور ان پیسوں کو مسجد میں ہی لگانا ضروری ہے، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا خیانت ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، چاہے بعد میں واپس کرنے کی نیت ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200383
تاریخ08-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں