بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کے بعد دوبارہ حدودِ حرم میں داخل ہوتے وقت احرام کا حکم

سوال

عمرہ کے بعد کسی کام کی وجہ سے جدہ جانا ہوا تو واپسی پر احرام اور عمرہ کیا لازم ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ آفاقی (جو میقات سے باہر ہو) کے یے میقات میں داخل ہونے کی حالت میں احرام باندھنا لازم ہے۔ لیکن اگر کوئی عمرہ کرکے جدّہ جا رہا ہے تو  چوں کہ جدّہ میقات کے اندر ہی ہے، لہذا وہ آفاقی نہ ہوگا اور اس کے لیے مکہ مکرمہ دوبارہ جانے کی صورت میں احرام باندھنا لازم نہیں ہوگا۔ تاہم اگر وہ عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو تو حدودِ  حرم سے پہلے احرام باندھ کر حرم شریف میں داخل ہو۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 164):
"وكذلك لو أراد بمجاوزة هذه المواقيت دخول مكة لايجوز له أن يجاوزها إلا محرمًا، سواء أراد بدخول مكة النسك من الحج أو العمرة أو التجارة أو حاجة أخرى عندنا".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200381
تاریخ08-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں