بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچہ گود لینے کے متعلق مسائل

سوال

اگر میں ایک بچے کو پیدائش سے ہی گود لیتا ہوں تو دودھ پلوانے کے علاوہ محرم بنانے کا اور کوئی طریقہ ہے؟

جب بچہ دو سال کا ہوجائےگا تو وہ ہمیں اور میرے والدین کو کیسے مخاطب کرےگا؟

بڑا ہوجانے کے بعد یہ ضروری تو نہیں ہے کہ اسے بتایا جائے کہ اسے گود لیا گیا ہے؟

جواب

جس نا محرم بچے کو گود لیا جائے تو  اسے کسی ایسی محرم خاتون سے دودھ  پلوانے (جس سے دودھ پینے کے بعد محرمیت کا رشتہ ثابت ہوجائے) کے علاوہ کوئی اور جائز صورت نہیں ہے جس سے وہ محرم بن جائے۔

اگر آپ  بچہ گود لیں گے تو اس کے لیے آپ کو والد اور آپ کے والدین کو دادا اور دادی پکارنا جائز نہیں ہوگا، بلکہ کسی بھی ایسےعام انداز میں مخاطب کرنا جائز ہوگا جس سے کسی بڑے کو پکارا جاتا ہے۔

بڑا ہوجانے کے بعد  بچے سے اس کا حقیقی نسب چھپانا درست نہیں۔ بچے کی نسبت اس کے حقیقی والد کی طرف کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200374
تاریخ07-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں