بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعاً ممنوعہ کھلونوں کو آگے دینے کا حکم

سوال

اگر ہمیں ممنوعہ تحفے ملیں، مثلاً کارٹون والے کھلونے اور کپڑے یا موسیقی کے آلات تو خود استعمال تو کرنے نہیں۔ان کا پھر کیا کیا جائے؟ کسی اور کو جو اس چیز کی پرہیز نہ کرتا ہو  دیے جا سکتے ہیں؟

جواب

اگر کسی کو جان دار کی تصویر پر مشتمل کھلونے یا کپڑے یا موسیقی کے آلات تحفے میں ملیں اور وہ تصاویر مٹائی یا چھپائی جاسکتی ہوں یا موسیقی اس آلہ میں سے ختم ہوسکتی ہو تو  تصویروں یا موسیقی سے  پاک کرکے خود استعمال کرلے، لیکن جان دار کی تصویر  یا موسیقی کےہوتے ہوئے اسے خود استعمال کرنا اسی طرح کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں، بلکہ اسے ضائع کردے، اسے ضائع کرنا اسراف نہیں کہلائے گا۔

"الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات

أهدى إلى رجل شيئًا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ... وأما هدايا الأمراء في زماننا فقد حكي عن الشيخ الإمام أبي بكر محمد بن الفضل البخاري - رحمه الله تعالى - أنه سئل عن هدايا الأمراء في زماننا قال ترد على أربابه". (الفتاوى الهندية (5 / 342)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144105200367
تاریخ07-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں