بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ہاتھ باندھنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

اگر کوئی آدمی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھتاہے تو  اگر قیام کی صورت میں اپنے ہاتھ بھولےسے گھٹنوں  پر رکھ لے اور رکوع جاتے وقت یاد آجاۓ تو نماز پر کوئی اثر ہوگا؟

جواب

نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کے نیچے دونوں ہاتھ باندھنا سنت ہے، اگر کوئی شخص کبھی عذر یا بھول کی وجہ سے ہاتھ باندھنا بھول گیا اور رکوع میں چلے گیا تو اس کی نماز ادا ہوجائے گی، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص  کی نماز ادا ہوگئی۔

البحر الرائق (1/ 319، 320):
"(قوله: وسننها رفع اليدين للتحريمة) للمواظبة ... (قوله: و وضع يمينه على يساره تحت سرته)؛ لما في صحيح مسلم عن وائل بن حجر أنه قال: «ثم وضع النبي صلى الله عليه وسلم يده اليمنى على اليسرى»، فانتفى به قول مالك بالإرسال". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200361
تاریخ07-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں