آہستہ سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
سوال
ایک آدمی فون پر کسی کو کہے کہ میری بیوی مجھ پہ طلاق ہے اور وہ بھی تین دفعہ، لیکن اس نے اتنے آرام سے بولا کہ ساتھ والا بھی نہ سن سکا تو اس کا کیا حکم ہے?
جواب
صورتِ مسئولہ میں جب اس شخص نے طلاق کے الفاظ پر تلفظ کردیا تو مذکورہ شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی؛ کیوں کہ طلاق واقع ہونے کے لیے زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کرنا ہی کافی ہے، کسی دوسرے کا ان الفاظ کو سننا شرط نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144105200357
تاریخ07-01-2020

