بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آہستہ سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم

سوال

ایک آدمی فون پر کسی کو کہے  کہ میری بیوی مجھ  پہ طلاق ہے اور وہ بھی تین دفعہ، لیکن اس نے اتنے آرام سے بولا کہ ساتھ والا بھی نہ سن سکا تو اس کا کیا حکم ہے?

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب اس شخص نے طلاق کے الفاظ پر تلفظ کردیا تو  مذکورہ شخص کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی؛ کیوں کہ طلاق واقع ہونے کے لیے زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کرنا ہی کافی ہے، کسی دوسرے کا ان الفاظ کو سننا شرط نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200357
تاریخ07-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں