بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کے بدلہ پنشن لینے کا حق کسی کو دینا

سوال

اگر کسی شخص کو پیسے کی ضرورت ہے تو وہ کسی شخص کے پاس سے پیسے لیتا ہے اور اس کے بدلے  میں پینشن لینے کا حق ان  کو دے دیتا ہے تو کیا شرعاً اس کی اجازت ہے؟

جواب

پینشن  کی رقم حکومت کی جانب سے  ملازمت سے سبک دوش ہونے یا ملازم کے انتقال کی صورت میں تبرع اور احسان کے طور پر دی جاتی ہے، نیز فی الوقت یہ رقم کسی شخص کی ملکیت میں موجود نہیں ہوتی جب  تک کہ آدمی اس کو وصول نہ کرلے، اور نہ ہی فوری  کوئی شخص پینشن کی رقم کسی کے حوالے کرسکتا۔ نیز مستقبل میں پینشن کی رقم کے بہرصورت ملنے اور حتمی مقدار کا تعین کرنابھی ممکن نہیں ہے، اس لیے کسی سے قرض لے کر اس بدلہ میں پینشن کا حق فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔(احسن الفتاویٰ 6/521-آپ کے مسائل اور ان کا حل 7/75)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200354
تاریخ07-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں