بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث کی تقسیم، ورثہ: شوہر، چار بیٹیاں اور ایک بیٹا

سوال

عورت کا انتقال ہوا، ورثاء: شوہر ،4 بیٹیاں ،ایک بیٹا۔ وراثت کی تقسیم بتائیں!

جواب

مرحومہ کے ذمے اگر قرض ہو تو سب سے پہلے کل ترکے میں سے اسے ادا کرنے کے بعد، اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے تہائی حصہ میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ میں سے 50۔12فیصد ہر بیٹی کو،  25 فیصد بیٹے کو، اور 25  فیصد شوہر کو ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200319
تاریخ06-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں