بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کن چیزوں کا قرض لے سکتے ہیں؟

سوال

ہمارے ہاں دوکان دار  اشیاءِ خورد و نوش کاتبادلہ اس طرح سے کرتے ہیں کہ ایک دوکان دار دوسرے سے بوقتِ ضرورت کوئی چیز مثلاً آٹے کی بوری ادھار لے کراپنے گاہک کودیتاہے۔  چند دن بعد اتنے وزن کی بوری اسے واپس کردیتاہے، اس کاشرعی حکم کیاہے؟

جواب

ہم مثل چیزوں(مثلاً جو چیزیں وزن کرکے یا ناپ کر دی جاتی ہیں) کا قرض لینا جائز ہے اور جو چیزیں ہم مثل نہ ہوں، بلکہ اس کی جنس کے افراد کی بھی قیمتیں مختلف ہوتی ہوں(مثلاً جانور، زمینیں وغیرہ) تو ایسی چیزوں میں قرض لینا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا آٹے کی بوری ادھار پر لے کر  اتنے وزن کی بوری واپس کرنا درست ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 161):
"(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات، كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت؛ لتعذر رد المثل".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200313
تاریخ06-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں