بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف عمارت خریدی اور وہ گرگئی تو اس زمین پر دوبارہ عمارت بناسکتا ہے جبکہ مالک نے زمین نہیں بیچی؟

سوال

ایک شخص کسی دوسرے شخص سے ایک بلڈنگ خریدے، لیکن وہ بلڈنگ جس زمین پر بنی ہوئی ہے وہ نہیں خریدی صرف بلڈنگ خریدی ہے تو اگر (اللّٰہ نہ کرے) کسی وجہ سے بلڈنگ گر جائے تو خریدنے والا شخص اس زمین پر دوسری بلڈنگ بنا سکتا ہے کہ نہیں؟

جواب

 واضح رہے کہ مالک زمین کا زمین چھوڑکر اس پر تعمیر شدہ عمارت بیچنا جائز ہے اور اس صورت میں عمارت خریدنے والا صرف عمارت کا مالک ہوگا ، اور زمین مالک کی ہوگی، لہذا اگر خدانخواستہ عمارت گرجائے تو عمارت کا مالک زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر اس جگہ دوبارہ عمارت تعمیر نہیں کرسکتا ، البتہ مالک اجازت دے دے تو تعمیر کرسکتا ہے۔

حاشية رد المختار على الدر المختار - (6 / 747)

"كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إهـ. وفيه بنى المتولي في عرصة الوقف أن من مال الوقف فللوقف وكذا لو من مال نفسه لكن للوقف ولو لنفسه من ماله فإن إشهد فله وإلا فللوقف بخلاف أجنبي بنى في ملك غيره".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200312
تاریخ06-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں