بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنِ مجید کی تلاوت کے بعد "صدق اللہ العظیم" کہنا

سوال

قراءت کے بعد ’’صدق اللہ العظیم‘‘  کہنا کیسا ہے؟  کیا قرات کے بعد ’’صدق اللہ العظیم‘‘  کہنا جائزنہیں؟

جواب

تلاوتِ قرآن کے اختتام پر ’’صدق الله العظیم‘‘  کہنا  تلاوت کے  آداب میں سے ہے،  تلاوت کے اختتام کی علامت اور قرآنِ کریم پر ایمان کی تجدید  کی وجہ سے ایک ادب اور اچھا کام ہے، البتہ یہ سنت نہیں ہے، اس لیے کو لازم اور ضروری نہیں سمجھنا چاہیے۔

تفسير القرطبي (1/ 27):
"ومن حرمته إذا انتهت قراءته أن يصدق ربه، ويشهد بالبلاغ".

تفسير حدائق الروح والريحان في روابي علوم القرآن (المقدمة/ 59):
"ومن حرمته: إذا انتهت قراءته، أن يصدّق ربّه، ويشهد بالبلاغ لرسوله صلّى الله عليه وسلم، ويشهد على ذلك أنّه حقّ، فيقول: صدقت ربّنا، وبلّغ رسولك إلينا ونحن على ذلك من الشاهدين، اللّٰهمّ! اجعلنا من شهداء الحقّ القائمين بالقسط، ثمّ يدعو بدعوات".

حاشية النهاية المحتاج إلى شرح المنهاج (2/ 43):
"[فرع] لو قال: صدق الله العظيم عند قراءة شيء من القرآن قال: م ر ينبغي أن لايضر، وكذا لو قال: آمنت بالله عند قراءة ما يناسبه. اهـ سم على منهج". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200293
تاریخ06-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں