بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی غیر مسلم کی موت پر إنا للہ پڑھنا

سوال

کسی غیر مسلم کی موت پر ’’إِنَّا للهِ‘‘ پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

1- ان کلمات  میں اللہ تعالی کی یکتائی اور آخرت کی یاد ہے،  کسی بھی انسان کی موت اس عقیدے کی یاد دہانی کا ذریعہ بن سکتی ہے، خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔

2- ہر موت  زندہ انسان کو اپنی موت کی یاد دہانی کراتی ہے، اس حیثیت سے ان کلمات  سے یاد دہانی میں غیر مسلم یا مسلم کی موت برابر ہے۔

3- یہ کلمات کسی بھی ناگہانی آفت پر پڑھے جاتے ہیں، اس مٰیں اعتقاد  کا پہلو ملحوظ نہیں ہوتا۔

لہٰذا اس کی گنجائش ہے، البتہ اگر کوئی کسی کافر کو مسلمان سمجھ کر پڑھے گا تو اس میں کفر کا ندیشہ ہے۔ (میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا۔172-2) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200286
تاریخ06-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں