بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حیات انبیاء علیھم السلام کا عقیدہ

سوال

عقیدۂ  حیاتِ انبیاءِ کرام علیہم السلام کیا ہے؟ اس عقیدہ کی شرعی حثیت کیا ہے؟ اس عقیدہ کے منکر کا کیا حکم ہے؟

جواب

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین رحمہم اللہ اور تمام امت کا اجماعی عقیدہ رہا ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، ان کو وہاں ان کے رب کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور ان کی جسموں کو قبر کی مٹی نہیں کھا سکتی۔ اس مسئلہ میں معتزلہ کے علاوہ کسی کا اختلاف نہیں، جو لوگ حیاتِ انبیاءِ کرام علیہم السلام  کے منکر ہوں وہ گم راہی پر ہیں اور ان کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے۔  تفصیل کے لیے ’’المہند علی المفند‘‘ ، ’’فتاویٰ بینات‘‘ (از جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی) اور ’’جواہر الفتاویٰ‘‘ (از مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی مدظلہ العالی) ملاحظہ کیجیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200270
تاریخ05-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں