بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں دائیں طرف اذان دی جائے یا بائیں طرف؟

سوال

اذان بائیں طرف یا داہنی طرف کہنا اولٰی ہے؟  اکثر لوگ بائیں طرف کہتے ہیں، اور حضرت تھانویؒ  نے ’’اغلاط العوام‘‘ میں صفحہ نمبر ۵۲ پر لکھا ہے کہ اس کی کوئی اصل شریعت میں نہیں ہے، ایک عالم بائیں طرف کو ترجیح دیتے ہیں!

جواب

واضح رہے کہ پنج وقتہ  نمازوں  کی اذان کے لیے مسجد کے اندر یا مسجد سے باہر  دائیں یا بائیں جانب کی کوئی تخصیص شریعت میں نہیں ہے، اگر کوئی عالم بائیں طرف کو ترجیح دیتے ہیں تو اس کی وجہ ان ہی سے معلوم کر لی جائے۔

البتہ جمعے کی اذانِ ثانی منبر (خطیب) کے سامنے کہنا سنت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200235
تاریخ04-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں