بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفاس کی مدت

سوال

اللہ نے مجھے بیٹی سے نوازا ہے، میں نے نفاس کے دن پورے کر لیے ہیں، لیکن 40 دن کے بعد بھی خون آتا ہے، لیکن زیادہ نہیں،  مطلب کہ کبھی سفید رنگ میں کبھی سرخ،  اسی طرح سے ہوتا ہے،  اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا میں نماز ادا کروں یا نہیں؟

جواب

نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت 40 دن ہے اس کے بعد بھی اگر خون آتا رہے تو وہ نفاس نہیں ہے اور نہ نفاس کے احکام اس پر لاگو ہوں گے خواہ رنگ کوئی بھی ہو۔  اگر پہلے بچے کی ولادت ہے تو چالیس دن نفاس کے اور اس کے بعد آنے والا خون استحاضہ ہے، یعنی چالیس دن پورے ہونے کے بعد غسل کرکے ان دنوں میں نماز پڑھنا لازم ہے۔

40 دن کی  مقدار زیادہ سے زیادہ مدت کی ہے، اس سے کم میں جب بھی خون کی آمد بند ہوجائے خواہ 20 دن یا اس سے بھی کم میں ہو تو وہی مدت نفاس ہوگی ، چالیس دن تک انتظار کرنا جائز نہیں۔

نیز اگر اس سے پہلے کوئی عادت تھی، یعنی اس سے پہلے بھی بچے کی ولادت ہوئی اور چالیس دن کے اندر خون بند ہوگیا، لیکن اس دفعہ خون اس سے زیادہ آتا رہا اور 40 دن سے بھی آگے چلا گیا تو اس صورت میں نفاس کے دن وہی عادت کے دن ہوں گے اور باقی تمام دنوں کی نمازیں قضا کرنی ہوں گی۔ فقط واللہ اعلم


 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200196
تاریخ03-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں