بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹریول ایجنٹ کا کام کرنا

سوال

’’ ٹریولنگ ایجنٹ‘‘  کا کام کرنا کیسا ہے؟  اور اس میں کن باتوں اور امور کی احتیاط کی جائے؟

جواب

’’ٹریول ایجنسی‘‘  کا کام اگر شرعی حدود و قیود کی رعایت کے ساتھ کیا جائے تو یہ کام کرنا شرعاً جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور جس آدمی کے بارے میں سب جانتے ہوں کہ اجرت پر یہ کام کرتاہے،  یا وہ خود صراحت کردے کہ وہ اتنی اجرت پر یہ کام کرے گا، اس کے لیے اس عمل پر مناسب معاوضہ اور اجرت وصول کرنا بھی جائز ہے۔

کام کرتے ہوئے غلط بیانی، دھوکا  دہی  سے اپنے آپ کو بچائیں، نیز کوئی خلاف قانون کام نہ کریں۔ مثلاً: غیر محرم کو محرم بناکر بھیجنا، یا یوں بول کر اجرت وصول کرنا کہ میں تو  اپنا نفع یا اجرت نہیں رکھ رہاہوں، وغیرہ وغیرہ۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200188
تاریخ02-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں