بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی جائز کام کرنے پرہدیہ لینا جائز ہے؟

سوال

کیا کسی جائز کام کرنے پرہدیہ لینا جائز ہے?

جواب

اگر کوئی شخص کسی کا کوئی جائز  کام کردے اور اس پر  وہ خوشی سے اسے کوئی ہدیہ پیش کرے تو ایسا ہدیہ لینا جائز ہے، لیکن اگر وہ کام اس شخص کا فرضِ منصبی ہو، (مثلاً وہ ملازم ہو، اور اس کے ذمے وہ کام کرنا ہو) اور وہ ہدیہ لیے بغیر نہ کرتاہو (خواہ ہدیہ مشروط ہو، یا عرف ہو کہ ہدیہ دیے بغیر کام نہیں ہوگا) تو یہ ہدیہ نہیں بلکہ رشوت کہلائے گا، جس کی لین دین شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200186
تاریخ02-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں