بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب اور عشاء ساتھ پڑھنا

سوال

کیا میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھ سکتا ہوں؛ کیوں کہ میری ڈیوٹی 5 بجے ختم ہوتی ہے اور مجھے 50 کلومیٹر کا سفر کرنا ہوتا ہے گھر کی طرف،  جس میں تقریباً  2 گھنٹے لگ جاتے ہیں اور مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔

جواب

بوجہ عذر مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھنے  کی جائز صورت یہ ہے کہ مغرب اپنے آخری وقت میں پڑھی جائے اور عشاء اپنے اول وقت میں پڑھی جائے۔  تاہم اس کو معمول بنا لینا مناسب نہیں ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ آپ آفس سے گھر جاتے وقت کسی جگہ ٹھہر کر مغرب کی نماز باجماعت ادا کرلیا کریں یا کم از کم جتنا جلدی ہوسکے ادا کرلیا کریں۔

نیز ملحوظ رہے کہ مغرب کی نماز جان کر قضا کرکے عشاء کے وقت میں عشاء کے ساتھ پڑھنا ناجائز ہے۔

المبسوط للسرخسي (1 / 149):
"وقال عمر - رضي الله تعالى عنه -: إنّ من أكبر الكبائر الجمع بين الصلاتين، فكما لايجمع بين العشاء والفجر ولا بين الفجر والظهر؛ لاختصاص كل واحد منهما بوقت منصوص عليه شرعاً فكذلك الظهر مع العصر، والمغرب مع العشاء. وتأويل الأخبار أنّ الجمع بينهما كان فعلاً لا وقتاً، وبه نقول".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200166
تاریخ02-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں