بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قعدہ اولی میں غلطی سے سلام پھیر دیا

سوال

اگر کوئی شخص 4 یا  3 فرض رکعات یا 4 رکعات سنت کی پڑھ رہا ہو،  اب اگر وہ پہلے قعدہ میں بیٹھ جائے اور وہ شخص دوسری  رکعات کے یعنی پہلے قعدہ میں ہی بھول سے سلام پھیر لے، اب اگر اس کو سلام پھیرتے ہوئے یاد آیا اور فوراً  وہ تیسری رکعات کے لیے کھڑا  ہوا،  اب اگر اس شخص نے اخیر میں سجدہ سہو کیا تو کیا اس شخص کی فرض یا سنت نماز ہوجائے گی یا نماز دوبارہ لوٹائے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سلام پھیرنے کے بعد رکعات باقی رہ جانا یاد آیا  اور (قبلے سے سینے کا رُخ موڑے بغیر اور بات چیت کیے بغیر) فوراً  کھڑے ہو کر تکبیر کہہ کر بقیہ رکعات مکمل کرکے آخر میں سجدہ سہو کرلیا تو  نماز ادا ہوگئی، اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200165
تاریخ02-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں