بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروہ سے سعی کو شروع کرنا

سوال

ایک حاجی صاحب نے طوافِ زیارت کے بعد سعی سہواً مروہ سے شروع کی   اور سات چکر مکمل کرنے کے بعد صفا پر سعی ختم کر دی۔  اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

سعی کا صفا سے شروع کرنا واجب ہے، اگر کسی شخص نے سعی کو مروہ سے شروع کیا تو اس کا پہلا چکر  (جو اس نے مروہ سے صفا کی طرف کیا وہ) سات چکروں میں شمار نہیں ہو گا، اس کے بعد اس کو سات چکر پورے کرنا لازم ہوں گے۔

اگر کسی نے ایسا کیا اور پہلے چکر کا اعادہ نہیں کیا تو ایسے شخص پر   ایک چکر چھوڑنے کی وجہ سے ایک صدقۃ الفطر کی مقدار صدقہ کرنا واجب ہوگا۔ اب سعی کا اعادہ یا دم واجب نہیں ہوگا۔

الأصل المعروف بالمبسوط للشيباني (2/ 407):

"وإن بدأ بالمروة وختم بالصفا حتى فرغ أعاد شوطًا واحدًا؛ لأنّ الذي بدأ فيه بالمروة، ثم أقبل منها إلى الصفا لايعتد به وإن ترك السعي فيما بين الصفا والمروة رأسًا في حج أو عمرة فعليه دم، و كذلك إن ترك منه أربعة أشواط، وإن ترك ثلاثة أشواط أطعم لكل شوط مسكينًا نصف صاع من حنطة إلا أن يبلغ ذلك دمًا".

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200162
تاریخ02-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں