بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تجدیدِ نکاح کب ہوسکتا ہے؟

سوال

تجدیدِ نکاح کن صورتوں میں اور کب ہوسکتا ہے؟

جواب

نکاح ٹوٹ جانے کی صورت میں تجدید نکاح کرنا پڑتا ہے، چاہے نکاح طلاق دینے کی وجہ سے ٹوٹا ہو (بشرطیکہ تین سے کم طلاق ہو) یا زبان سے کفریہ الفاظ نکالنے کی وجہ سے ٹوٹا ہو۔ نکاح نہ بھی ٹوٹاہو، پھر بھی گاہے گاہے تجدیدِ نکاح کرلینا چاہیے، البتہ تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد تجدیدِ نکاح نہیں ہوسکتا ہے، تاآں کہ مطلقہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرے، اور دوسرا شوہر وفات پاجائے یا وہ میاں بیوی کا تعلق قائم کرکے از خود طلاق دے دے، اور یہ عورت اس کی عدت گزارلے، پھر پہلے شوہر کے لیے تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200159
تاریخ01-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں