بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے محمد کو پکارتے ہوئے "ﷺ" کہنا

سوال

میرے بیٹے کا نام میں نے صرف ’’محمد‘‘  رکھا ہے۔تو کیا اب جب بھی میرے بیٹے محمد  کو ہم بلائیں  گے یا  محمد نام کہہ  کر آپس میں اس کا تذکرہ کریں  گے۔تو  ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘  کہنا پڑے گا؟ اور اگر بیٹے کو ہی محمد کہیں،  لیکن خیال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے  نام کی طرف غیر ارادی طور پر چلا جائے تو کیا صلی اللہ علیہ وسلم کہنا پڑے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے بیٹے ’’محمد‘‘  کا نام لیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ  کا خیال بھی آئے تو  بھی ﷺ  کہنا لازم نہیں۔ بلکہ بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے اس کے نام کے ساتھ ’’ﷺ‘‘ کہنا،  یا اس کا نام لکھتے ہوئے ’’ﷺ‘‘ لکھنا بھی نہیں چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200157
تاریخ01-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں