بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی صدقات والدین کو دینا

سوال

والدین کو نفلی صدقہ دینے کا حکم ہے؟

جواب

نفلی صدقات امیر اور غریب ہر شخص کو  دیے جاسکتے ہیں، البتہ بہتر یہ ہے ضرورت مند کو دیا جائے، اگر والدین ضرورت مند ہیں تو  نفلی صدقات ان کو دینا اس کا بہترین مصرف ہے، اگر والدین ضرورت مند  نہ ہوں تو بھی ان کو نفلی صدقات دینا جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ صدقہ کی نیت سے الگ کی گئی رقم ضرورت مند کو دے دی جائے اور والدین کو ہدایا اور تحائف الگ دیے جائیں۔

"وأما صدقة التطوع فیجوز صرفها إلی الغنی لأنها تجري مجری الهبة". (بدائع الصنائع، ۲/48، ط: سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200130
تاریخ01-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں