بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھٹمل کو زندہ جلانے اور پانی میں ڈالنے کا حکم

سوال

کھٹمل کو زندہ جلانے کا حکم کیا ہے؟ نیز یہ بھی وضاحت  فرما دیں کہ کھٹمل کو پانی میں  زندہ ڈالنا  کیسا ہے؛ کیوں کہ اس سے یہ پھیلتے نہیں۔

جواب

کسی بھی موذی جانور  کو بلاضرورت شدیدہ جلا کر مارنا جائز نہیں ہے کھٹمل کو  مارنے کے دیگر  جو طریقے ہیں ان کو اختیار کرنا چاہیے،  البتہ اگر موذیات سے کسی اور طریقے سے چھٹکارے کی توقع  نہ ہو  تو جلانے کی گنجائش ہوگی ،باقی اگر پانی میں زندہ ڈالنے سے نہ پھیلنے کا تجربہ ہو تو پانی میں زندہ ڈالنا بھی جائز  ہے۔

العرف الشذي للكشميري (3/ 180):
و"الإحراق عن الصحابة أيضاً ، وفي الدر المختار ص ( 334 ) : جواز إحراق اللوطي، وروي عن أحمد بن حنبل جواز إحراق الحيوانات المؤذية من القمل والزنابير وغيرها وبه أخذ عنه عدم البدّ منه".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200103
تاریخ30-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں