بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مضاربت کی ایک جائز صورت

سوال

ایک کاروبار میں چار افراد شریک ہیں،  ایک کا عمل باقی تین افراد کا پیسہ، کیا ان کا نفع نقصان برابر ہوگا یا جس فرد کے جتنے پیسے ہوں گے اس کے مطابق منافع ہوگا اور منافع متعین نہیں ہے اور کاروبار کی مدت چار ماہ ہےاور کاروبار ختم ہونے کی صورت میں پیسےواپس ہوں گے، کیا اس طرح کاروبار درست ہے یانہیں ؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں اس طرح کام کرنا کہ چار ماہ کےلیے  تین افراد سرمایہ کاری کریں اور ایک آدمی محنت کرے  شرعاً درست ہے،لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک کانفع فیصد کے اعتبار سے متعین ہو ، اسے مجہول نہ چھوڑا جائے ورنہ معاملہ فاسد ہوجائےگا، منافع کی تعیین باہمی رضامندی سے کرلی جائے، چار ماہ بعد اگر کاروبار میں نقصان نہ ہوا ہو تو ہر ایک سرمایہ کار کو اس کاسرمایہ اور نفع دے دیا جائے اور  مضارب کو اس کے حصے کا منافع دے دیا جائےاور اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے  تو پہلے نفع سے پورا کیا جائے گا ،اگر نفع سے پورا نہ ہو تو ہر سرمایہ دار اپنے اپنے حصے کے بقدر نقصان برداشت کرے گا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200085
تاریخ30-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں