بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جادو سے بچنے کے لیے ڈاڑھی کے بالوں کو دو ٹکڑے کرکے پھینکنا

سوال

بعض لوگ داڑھی سے ٹوٹے ہوئے بالوں کو دانتوں سے دو ٹکڑے کرکے پھینک دیتے ہے؛  تاکہ جادو وغیرہ نہ ہو سکے،  کیا اس کی کوئی اصل شریعت میں ہے؟

جواب

سر یا داڑھی کے بال انسانی جسم کا حصہ ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام ہیں، اس لیے ان کا حکم یہ ہے کہ اگر سہولت ہو تو اس کو کسی زمین میں دفنا دینا چاہیے،  گندگی وغیرہ میں نہیں پھینکنا  چاہیے، باقی ڈاڑھی  کے گرنے والے بال کو جادو سے بچنے کے لیے دو ٹکڑے کرکے پھینک دینا شرعًا ثابت نہیں ہے، البتہ اگر اس لائن کا کوئی ماہر  متبعِ شریعت  شخص جادو  سے بچنے کے لیے یہ تجویز دیتا ہے تو  اس پر عمل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس کا تعلق امور تجربہ سے ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200083
تاریخ30-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں