بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امتحان میں نقل کرنے، کروانے کا حکم

سوال

امتحانی حال میں نقل کرنے والے شاگرد کو استاذ جو رعایت کرتا ہے شریعت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں، نیز یہ بھی واضح کریں کہ کس صورت میں یہ جائز ہوسکتاہے؟

جواب

نقل کرنا ضابطہ کے خلاف عمل اور دھوکا دہی کے زمرے میں داخل ہے، جس کی شرعاً اجازت نہیں، جس طرح نقل کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح استاذ  کا کسی طالب علم کو پرچہ حل کروانا یا نقل کرنے میں معاون بننا بھی ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200063
تاریخ29-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں