بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر سننِ مؤکدہ و غیرِ مؤکدہ اور نفل نماز پڑھے گا؟

سوال

مسافر سننِ مؤکدہ و غیر مؤکدہ اور نفل نماز پڑھے گا؟

جواب

حالتِ سفر  میں سنتوں اور نوافل کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی جگہ ٹھہرے ہوئے ہوں، اطمینان کی حالت ہو تو سنن ونوافل پڑھ لینا افضل ہے، ضروری نہیں، اور اگر جلدی ہے یا سفر جاری ہے تو چھوڑدینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔  البتہ فجر   کی سنت سفر میں بھی پڑھنی چاہییں، نیز   وتر  بہر صورت پڑھنی ہیں ۔ فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200039
تاریخ29-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں