بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پھل کی بیع پھول ہونے کے زمانہ میں کرنے کا حکم

سوال

کیا پھل کی بیع پھول ہونے کے زمانہ میں کرسکتے ہیں؟ اور اس میں مسلم اور کافر کا کوئی فرق ہے؟

جواب

جب تک پھول میں سے پھل ظاہر نہ ہوجائیں اس وقت تک پھلوں کی بیع کرنا جائز نہیں ہے، البتہ پھل ظاہر ہونے اور آفت سے محفوظ ہونے کے بعد اس کی بیع کرنا جائز ہے،  چاہے پکنے سے پہلے بیع کی جائے یا پکنے کے بعد، دونوں صورتیں جائز ہیں، البتہ درخت پر کچا پھل خریدنے کی صورت میں پھلوں کو درخت پر چھوڑنے کی شرط لگانا درست نہیں ہے؛ اس لیے عقدِ بیع میں اس شرط  سے اجتناب کیا جائے۔

یہ حکم مسلمان خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے ہے،  یعنی مسلمان پھل ظاہر ہونے سے پہلے نہ تو اس پھل کو کسی (مسلمان یا کافر ) سے خرید سکتا ہے اور  نہ ہی کسی (مسلمان یا کافر ) پر بیچ سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 554):
"(ومن باع ثمرةً بارزةً) أما قبل الظهور فلايصح اتفاقًا. (ظهر صلاحها أو لا، صح) في الأصح. (ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب) وصححه السرخسي وأفتى الحلواني بالجواز  لو الخارج أكثر زيلعي.

(قوله: أما قبل الظهور) أشار إلى أن البروز بمعنى الظهور، والمراد به انفراد الزهر عنها وانعقادها ثمرة وإن صغرت. (قوله: ظهر صلاحها أو لا) قال: في الفتح لا خلاف في عدم جواز بيع الثمار قبل أن تظهر ولا في عدم جوازه بعد الظهور قبل بدو الصلاح، بشرط الترك ولا في جوازه قبل بدو الصلاح بشرط القطع فيما ينتفع به، ولا في الجواز بعد بدو الصلاح، لكن بدو الصلاح عندنا أن تؤمن العاهة والفساد، وعند الشافعي هو ظهور النضج وبدو الحلاوة والخلاف إنما هو في بيعها قبل بدو الصلاح على الخلاف في معناه، لا بشرط القطع فعند الشافعي ومالك وأحمد لا يجوز، وعندنا إن كان بحال لا ينتفع به في الأكل، ولا في علف الدواب فيه خلاف بين المشايخ قيل: لا يجوز ونسبه قاضي خان لعامة مشايخنا، والصحيح أنه يجوز؛ لأنه مال منتفع به في ثاني الحال إن لم يكن منتفعا به في الحال، والحيلة في جوازه باتفاق المشايخ أن يبيع الكمثرى أول ما تخرج مع أوراق الشجر فيجوز فيها تبعا للأوراق كأنه ورق كله، وإن كان بحيث ينتفع به ولو علفا للدواب فالبيع جائز باتفاق أهل المذهب إذا باع بشرط القطع أو مطلقا. اهـ". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105200021
تاریخ28-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں