بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیت المقدس کی طرف پاؤں کرکے لیٹنا

سوال

اکثر لوگوں سے سنا ہے کہ شمال کی طرف بیت المقدس واقع ہے؛ لہذا اس سمت پاؤں کر کے لیٹنا گناہ ہے،  براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ بیت المقدس کا شمال کی سمت میں ہونا مکہ مکرمہ کے حساب سے ہے، پاکستان میں بیت المقدس مغرب کی طرف ہے، باقی کسی بھی مقام و مکان سے بیت المقدس کی طرف پاؤں کرنا یا پاؤں کرکے لیٹنا گناہ نہیں ہے۔ یہ ادب صرف بیت اللہ کے ساتھ خاص ہے۔

لما في بذل المجهول في حل سنن أبي داؤد، كتاب الطهارة:

"(نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تستقبل القبلتين) أي الكعبة وبيت المقدس (ببول وغائط) فيحتمل أنه احترام لبيت المقدس مدة كونه قبلة لنا، أو لأن باستقباله تستدبر الكعبة لمن كان بنحو طيبة، فليس النهي لحرمة القدس". (رقم الحديث 10، الطبعة الثالثة، (1/199) دار البشائر الإسلامية) فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104201076
تاریخ31-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں