بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رسم و رواج کو اپنانے کا حکم

سوال

رسم و رواج اپنانا کیسا ہے؟

جواب

جو رسم و رواج ایسے ہوں کہ ان کے کرنے سے کفار کی مشابہت یا شرعی اَحکام کی خلاف ورزی لازم آتی ہو تو ایسے رسم و رواج کو اپنانا جائز نہیں ہے، البتہ وہ رسم و رواج جو کسی شرعی دلیل سے تو ثابت نہ ہوں، لیکن ان میں کفار کی مشابہت بھی نہ پائی جاتی ہو اور کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی بھی لازم نہ آتی ہو تو ایسے رسم و رواج مباح کے درجے میں ہوں گے، انہیں لازم سمجھے بغیر اختیار کرنے  کی گنجائش ہوگی۔  یعنی کسی کو ان کے اپنانے پر مجبور نہ کیا جائے، ان میں شرکت پر اصرار نہ کیا جائے، نہ کرنے پر طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنایا جائے، اور اپنانے پر کسی قسم کے ثواب کی امید بھی نہ رکھی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104201047
تاریخ28-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں