بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رکوع اور سجدہ میں تین سے کم تسبیحات پڑھنے کا حکم

سوال

سجدے یا رکوع میں تسبیحات تین سے کم پڑھیں، یعنی ایک یا دو مرتبہ پڑھا تو کیا حکم ہے؟

جواب

نماز کے رکوع اور سجدہ میں تین مرتبہ تسبیحات کہنا سنت ہے،  تین مرتبہ سے کم کہنا مکروہِ تنزیہی ہے، البتہ نماز ادا ہوجائے گی اور سجدہ سہو  بھی لازم نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 476):
"(وتكبير الركوع و) كذا (الرفع منه) بحيث يستوي قائمًا (والتسبيح فيه ثلاثًا) وإلصاق كعبيه ...  (وتكبير السجود و) كذا نفس (الرفع منه) بحيث يستوي جالسًا (و) كذا (تكبيره، والتسبيح فيه ثلاثًا ... (قوله: ثلاثًا) فلو تركه أو نقصه كره تنزيهًا". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104201038
تاریخ27-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں