بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسقاطِ حمل کا حکم

سوال

میری شادی کو 5 سال ہوگئے ، 2 جڑواں بچے ہیں،  بیوی کی دماغی حالت اچھی نہیں، پہلی ڈیلوری میں بھی اس کی جان خطرے میں تھی،  بڑٰ ی مشکل سے بچایا اس کو،میری جاب ختم ہونے والی ہے،  مالی حالت اچھی نہیں ، بیوی، ماں وغیرہ کے اخراجات ہیں۔اب ایک ماہ سے اس کو ایام نہیں آئے، بہت پریشان ہے،اور بچہ ہو تو ضائع کروانے کے لیے کہہ رہی ہے، جسمانی اور دماغی حالت کی وجہ سے۔میں کیا کروں؟

جواب

اگر حمل سے عورت کی جان کو خطرہ  ہو یا کسی شدید مضرت کا اندیشہ ہو ، یا  حمل سے عورت کا دودھ بند ہوجائے جس  سے پہلے بچہ کو نقصان ہو   اور کوئی  تجربہ کار مستند مسلمان ڈاکٹر اس کی تصدیق کرتا ہے  تو اس جیسے اعذار کی بنا پر  حمل میں روح پڑجانے سے پہلے   پہلے (جس کی مدت تقریباً چار ماہ ہے)    اسے ساقط کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اور چار ماہ پورے ہونے پر  کسی صورت میں اسقاطِ حمل جائزنہیں ہے، اور  شدید عذر نہ ہو تو پھر  حمل کو ساقط کرنا   کسی بھی وقت جائز نہیں، بلکہ بڑا گناہ ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104201024
تاریخ27-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں