بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آیت مبارکہ کو بطور وظیفہ پڑھنا

سوال

اگر کوئی شخص آیتِ  مبارکہ  "والشمس والقمر رئیتھم لي ساجدین"  کو بطور وظیفہ پڑھنا چاہتا ہے تو کیا معنوی لحاظ سے درست  ہے؟ کیوں کہ  درمیان آیت سے پڑھتا ہے؟

جواب

عوام کے  لیے بہتر  یہ ہے کہ خود سے کوئی وظیفہ پڑھنے  کے بجائے اپنی حاجت اور جس مقصد کے  لیے وظیفہ پڑھنا چاہتے ہیں وہ کسی مستند عالم  کے سامنے  ذکر کر دیں  جو اس شعبے کا تجربہ رکھتے ہوں، پھر جو  وظیفہ تجویز  کریں، اس پر عمل کریں، آپ نے آیتِ  مبارکہ کا جو  حصہ سوال  میں  لکھا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ  "میں سورج اور چاند کو دیکھتا ہوں کہ یہ میرے سامنے سجدہ ریز ہیں"، یہ حضرت یوسف علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کا مقولہ ہے، سیاق و سباق کے بغیر اس جملے کا استعمال  مناسب  نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104201017
تاریخ27-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں