بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان کو قادیانی کا خون لگانا

سوال

 اگر کسی کو خون کی اشد ضرورت ہو تو نہ   ملنے  کی صورت میں مجبورًا  کسی  شیعہ یا پھر قادیانی سے مدد لی جائے تو اس بارے  میں شریعت کیا حکم دیتی  ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  ضرورتِ  شدیدہ  کے  وقت  مریض کو کسی بھی انسان کا خون لگایا جاسکتا ہے،البتہ  بہتر یہ ہےکہ مسلمان  کو مسلمان  کا ہی خون لگایا جائے۔

مجمع الانہرمیں ہے:

"و في شرح المنظومة الإرضاع بعد مدته حرام؛ لأنه جزء الآدمي و الانتفاع به غير ضرورة حرام على الصحيح و أجاز البعض التداوي به؛ لأنه عند الضرورة لم يبق حرامًا."

(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، مايحرم بالرضاع۱ /۳۷۶ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه."

(الفتاوي الهندية كتا ب الكراهية الباب الثامن عشر في التداوي۵ /۳۵۵ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104201006
تاریخ26-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں