بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کے جوان ہونے کے بعد والدین کے ساتھ سونے کا حکم

سوال

جب اولاد جوان ہو جاۓ تو والدین کے ساتھ  سونے کاکیا حکم ہے؟

جواب

جوان اولاد کا والدین کے ساتھ ایک بستر میں سونا شرعًا ممنوع ہے، بلکہ حدیث شریف  کے مطابق تو اولاد  کی عمر دس برس ہونے کے بعد ان کو آپس میں ایک ساتھ ایک بستر پر سلانا بھی ممنوع  ہے۔

شرح أبي داود للعيني (2/ 416):

"قوله: " وفرقوا بينهم في المضاجع " أي: في المراقد؛ وذلك لأنهم إذا بلغوا إلى عشر سنين يقربون من أدنى حد البلوغ، وينتشر عليهم آلاتهم، فيخاف عليهم من الفساد".

بذل المجهود في حل سنن أبي داود (3/ 235):

"(وفرقوا بينهم  في المضاجع) قال في "المجمع": وحديث "فرقوا بينهم في المضاجع"، أي فرقوا بين الأخ والأخت مثلًا في المضاجع لئلايقعوا فيما لاينبغي؛ لأن بلوغ العشر مظنة الشهوة".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200971
تاریخ26-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں