کیا بچے کا نام عورت رکھ سکتی ہے؟
سوال
کیا عورت بچی کا نام رکھ سکتی ہے کہ نہیں؟
جواب
بچے کا نام رکھنا اس کے والد کا حق ہے، لیکن اگر والد کی اجازت سے کوئی خاتون بچے کا نام رکھے تو اس کی بھی اجازت ہے، بچی کا نام رکھنا ہے تو بہتر ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہم یا نیک خواتین میں سے کسی کے نا م پر رکھاجائے۔
" الفصل الخامس في أن التسمية حق للأب لا للأم
هذا مما لا نزاع فيه بين الناس، وأن الأبوين إذا تنازعا في تسمية الولد فهي للأب، والأحاديث المتقدمة كلها تدل على هذا، وهذا كما أنه يدعى لأبيه لا لأمه، فيقال: فلان ابن فلان، قال تعالى: {أدعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله} [الأحزاب] (تحفة المودود بأحكام المولود، الباب الثامن 1 / 135 ط: مكتبة دار البيان) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

