بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بچے کا نام عورت رکھ سکتی ہے؟

سوال

کیا عورت بچی کا نام رکھ سکتی ہے کہ نہیں؟

جواب

بچے کا نام رکھنا اس کے والد کا حق ہے، لیکن اگر والد کی اجازت سے کوئی خاتون بچے کا نام رکھے تو اس کی بھی اجازت ہے، بچی کا نام رکھنا ہے تو بہتر ہے کہ صحابیات رضی اللہ عنہم  یا نیک خواتین میں سے کسی کے نا م پر  رکھاجائے۔

" الفصل الخامس في أن التسمية حق للأب لا للأم

 هذا مما لا نزاع فيه بين الناس، وأن الأبوين إذا تنازعا في تسمية الولد فهي للأب، والأحاديث المتقدمة كلها تدل على هذا، وهذا كما أنه يدعى لأبيه لا لأمه، فيقال: فلان ابن فلان، قال تعالى: {أدعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله} [الأحزاب] (تحفة المودود بأحكام المولود، الباب الثامن 1 / 135 ط: مكتبة دار البيان) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200938
تاریخ25-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں