بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بریلوی مسلک کی مسجد میں نماز پڑھے یا تنظیمِ اسلامی کی مسجد میں

سوال

ہم نے چند دن قبل اپنا گھر تبدیل کیا ہے، اطراف میں دو مسجدیں ہیں:  ایک بریلوی مسلک کی، اور دوسری تنظیمِ اسلامی کی۔ عقائد کو مدنظر رکھتے ہوئے کن کی اقتدا  بہتر ہے؟

جواب

اگر اتنے فاصلے پر صحیح العقیدہ لوگوں کی مسجد نہ ہو جس میں جماعت سے نماز میں شریک ہوسکیں تو  بوجہ مجبوری مذکورہ دونوں مسجدوں میں جماعت سے نماز ادا کرسکتے ہیں، اور دونوں ہی کی اقتدا میں نماز کراہت سے ادا ہوگی، البتہ انفرادی نماز ادا کرنے کی بجائے جماعت سے نماز ادا کیجیے، تاکہ جماعت کا ثواب حاصل ہوجائے، گو متقی (پرہیزگار) امام کی اقتدا کا ثواب اس میں نہیں ہوگا۔ باقی عمومی نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں میں سےتنظیمِ اسلامی  کی اقتدا  بہتر ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200919
تاریخ25-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں