بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں گلا صاف کرنا

سوال

نماز میں گلا صاف کرنا کیسا ہے؟

جواب

ضرورت ہو تو حرج نہیں۔ (مثلاً: امام ہو اور قراء ت کے لیے گلا صاف کرے، یا مرض کی وجہ سے کھانسی ہو) بلاضرورت پسندیدہ نہیں ہے، جب کہ کھنکھارنے سے حروف کی آواز پیدا نہ ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 618):
"(قوله: والتنحنح) هو أن يقول: أح بالفتح والضم، بحر. (قوله: بحرفين) يعلم حكم الزائد عليهما بالأولى، لكن يوهم أن الزائد لو كان بعذر يفسد، ويخالفه ظاهر ما في النهاية عن المحيط، من أنه إن لم يكن مدفوعاً إليه بل لإصلاح الحلق؛ ليتمكن من القراءة إن ظهر له حروف". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200894
تاریخ24-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں