بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے دودھ سے انتفاع

سوال

 کیا بیوی کا دودھ پی سکتے ہیں؟

جواب

بیوی کا دودھ   پینا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ  انسان اشرف المخلوقات ہے، اس کے تمام اعضاء مکرم ہیں، ان کی عظمت اور اکرام  کی وجہ سے شرعاً ان سے انتفاع حرام ہے،  اور عورت کا دودھ اس کا جز ہے، اس کی حرمت اور عظمت ہے،  بچہ کی شیرخوارگی کے زمانہ میں ضرورتاً اس کی اجازت ہے،  شیرخوارگی (دو سال) کی عمر گزرنے کے بعد اس کا استعمال جائز نہیں ہے، لہذا بیوی کا دودھ  اگر غلطی سے حلق میں چلاجائے تو اس کو تھوک دیا جائے، اور اگر اندر چلے جائے تو اس پر توبہ واستغفار کیا جائے اور آئندہ اس سے اجتناب کیا جائے۔ تاہم اس سے بیوی حرام نہیں ہوگی۔

{وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا} [الإسراء: 70]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 211):
"(ولم يبح الإرضاع بعد موته)؛ لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح، شرح الوهبانية".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200892
تاریخ24-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں