لاعلمی میں سودی معاملہ کرلیا
سوال
ایک شخص نے سود کی حرمت سے عدمِ واقفیت کی بنا پر بینک سے سود لیا، او ر اب اسے اس گناہ کا علم ہوا ہے، لیکن وہ سودی قرض کی قسطیں ادا کر رہاہے، اور دس اقساط باقی ہیں۔ اور اس کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ تما م اقساط یک مشت ادا کردے۔ تو کیا شریعت کی نظر میں اس کو اجا زت ہوگی کہ وہ بقیہ اقساط کی ادائیگی کر ے؟
جواب
جس قدر ہوسکے جلد از جلد قرض ادا کرنے کی سعی کرے اور توبہ و استغفار کرتا رہے، اور سودی قرض کے وبال سے جلد جان خلاصی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

