بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لاعلمی میں سودی معاملہ کرلیا

سوال

ایک شخص نے سود کی حرمت سے عدمِ واقفیت کی بنا پر بینک سے سود لیا، او ر اب اسے اس گناہ کا علم ہوا ہے، لیکن وہ سودی قرض کی قسطیں ادا کر رہاہے، اور دس اقساط باقی ہیں۔ اور اس کے پاس اتنی وسعت نہیں کہ تما م اقساط یک مشت ادا کردے۔ تو کیا شریعت کی نظر میں اس کو اجا زت ہوگی کہ وہ بقیہ اقساط کی ادائیگی کر ے؟

جواب

جس قدر  ہوسکے جلد از جلد قرض ادا کرنے کی سعی کرے اور توبہ و استغفار کرتا رہے، اور سودی قرض کے وبال سے جلد جان خلاصی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200885
تاریخ24-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں