بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوران حمل جماع کب تک جائز ہے؟

سوال

دورانِ حمل جماع کرنا کب تک جائز ہے؟

جواب

حالتِ حمل میں کسی بھی وقت بیوی سے ہم بستری کرنا شرعاً جائز ہے، بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ حالتِ حمل میں ہم بستری کرنے سے بچے کے بال بڑھتے ہیں اور اس کی بینائی اور سماعت بھی تیز ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی دِین دار و ماہر طبیب یا ڈاکٹر کسی عذر کی بنا پر احتیاط کا مشورہ دے تو اس کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔

" الدر المختار مع ردالمحتار" میں ہے:

"لئلا يسقي ماء ه زرع غيره؛ إذ الشعر ينبت منه.
(قوله: إذ الشعر ينبت منه) المراد ازدياد نبات الشعر، لا أصل نباته، ولذا قال في التبيين والكافي : لأن به يزداد سمعه وبصره حدةً كما جاء في الخبر. اهـ.
وهذه حكمته، وإلا فالمراد المنع من الوطء ؛ لما في الفتح قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لايحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماء ه زرع غيره». يعني إتيان الحبلى. رواه أبو داود والترمذي وقال:حديث حسن. اهـ. شرنبلالية". (الدر المختار مع رد المحتار (3/ 49) 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200881
تاریخ24-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں