بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت وفات کی تکمیل پر گھر سے نکلنا ضروری نہیں

سوال

میرے ابا کی 112  دن قبل وفات ہوئی ہے،  میری اماں اپنی عدت کے ایام پورے  کر رہی ہیں۔ میری نانی کا ذہن ہے کہ عدت مکمل ہونے پر وہ اماں کو اپنے گھر لے جائیں گی اور ایک رات اپنے گھر پر قیام کروا کر اگلے دن نئے کپڑے دے کر انہیں، اپنے گھر سے رخصت کروائیں۔ ان تمام معاملات میں شریعت ہمیں کیا حکم دیتی ہے؟  آپ ہماری راہ نمائی فرمائیں۔ اور کوئی ضروری عمل و عبادت جو ان ایام میں اماں کر سکیں، اس کی بھی ہماری اصلاح فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے والد کی وفات اسلامی مہینے کی یکم تاریخ کے علاوہ کسی اور دن ہوئی تھی تو آپ کی والدہ شمار کر کے 130  دن بطورِ عدت مکمل کریں،  اس کے بعد گھر سے نکلنا شرعاً ضروری نہیں،  اور  نانی کے گھر جانا  ممنوع بھی نہیں، مباح عمل ہے ، نیز عدت کی تکمیل پر تحفہ تحائف دینا بھی لازمی نہیں، کوئی خوشی سے دے تو حرج نہیں، البتہ اگر اس عمل کو لازمی سمجھا جائے، یا اس کا رواج ہو تو ایسا رواج واجب الترک ہوگا۔

دورانِ عدت بناؤسنگھار، خوش بو  لگانے سے اجتناب ضروری ہے، مخصوص عبادت نہیں ہے، مقررہ عبادات کرتی رہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200871
تاریخ24-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں