بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے یا قیمتِ خرید کا؟

سوال

زکاۃ میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے یا قیمتِ خرید کا؟

جواب

مالِ تجارت کی زکاۃ کی ادائیگی میں قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے، یعنی  زکاۃ کی ادائیگی کے وقت بازار میں اس کی جو قیمتِ فروخت  ہے، اس حساب سے اس کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔

المبسوط للسرخسي (2/ 190):
"وكذلك زكاة مال التجارة تجب بالقيمة".

الموسوعة الفقهية الكويتية (34/ 132):
"قيمة
التعريف:
1 - القيمة في اللغة: الثمن الذي يقوم به المتاع، والقيمة واحدة القيم، وهي ثمن الشيء بالتقويم.
وفي الاصطلاح: ما قوم به الشيء بمنزلة المعيار من غير زيادة ولا نقصان ... " الخ 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144104200816
تاریخ22-12-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں